نظریں ملیں تو پیار کا اظہار کگیا
بولا تو بات بات سے ا نکار کر ر گیا
آنکھوں نے خشت خشت چنی رات کی فصیل
خورشید صبح پھر اسے مسمار کر گیا
جتنا اڑا ہوں اتنا فلک بھی ہوا بلند
کون اس قفس میں مجھ کو گرفتار کر گیا
بن بن کے پانیوں کے بھنور ٹوٹتے گئے
میں ڈوبتا ہوا بھی ندی پار کر گیا
ورنہ یہ بوجھ کون اٹھاتا تمام عمر
اچھا ہوا کہ پہلے وہی وار کر گیا
میں لفظ ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک بھی گیا عدیم
وہ پھول دے کے بات کا اظہار کر گی